بازار کی مٹھائی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - (لفظاً) وہ چیز جو ہر شخص کو آسانی سے مل سکے، (مراداً) کسبی، طوائف، رنڈی۔ "اب شروع ہوئی بازار کی مٹھائی پر چھین جھپٹ یا شاعروں کی زبان میں رقابت۔"      ( ١٩٤٤ء، مقالات ماجد، ٢٩٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'بازار' اور ہندی سے ماخوذ اسم 'مٹھائی' کے درمیان کلمۂ اضافت 'کی' لگنے سے مرکب اضافی 'بازار کی مٹھائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٥٢ء میں "کلیات منیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (لفظاً) وہ چیز جو ہر شخص کو آسانی سے مل سکے، (مراداً) کسبی، طوائف، رنڈی۔ "اب شروع ہوئی بازار کی مٹھائی پر چھین جھپٹ یا شاعروں کی زبان میں رقابت۔"      ( ١٩٤٤ء، مقالات ماجد، ٢٩٦ )

جنس: مؤنث